صحابۂ کرام
معنی
١ - رسول کریمۖ کے اصحاب، وہ لوگ جو بحالت اسلام آپۖ کی خدمت میں باریاب ہوئے اور بحالت اسلام ہی وفات پائی۔ "اللہ کے رسول نے ان کے آگے خطبہ دیا، خطبہ کیا تھا ایسی باتیں تھیں کہ صحابۂ کرام کے دل بھر آئے۔" ( ١٩٨٥ء، روشنی، ٦٤ )
اشتقاق
عربی زبان سے مشتق اسم 'صحابہ' کے ساتھ کسرہ اضافت لگا کر عربی اسم 'کرام' لگانے سے مرکب اضافی بنا۔ اردو زبان میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٨٤ء کو "تذکرہ غوثیہ" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - رسول کریمۖ کے اصحاب، وہ لوگ جو بحالت اسلام آپۖ کی خدمت میں باریاب ہوئے اور بحالت اسلام ہی وفات پائی۔ "اللہ کے رسول نے ان کے آگے خطبہ دیا، خطبہ کیا تھا ایسی باتیں تھیں کہ صحابۂ کرام کے دل بھر آئے۔" ( ١٩٨٥ء، روشنی، ٦٤ )